[]
Home » Editorial & Articles » مجاہد آزادی مولانا مجتبٰی حسین صدیقی صاحب – ایک بزرگ شخصیت
مجاہد آزادی مولانا مجتبٰی حسین صدیقی صاحب – ایک بزرگ شخصیت

مجاہد آزادی مولانا مجتبٰی حسین صدیقی صاحب – ایک بزرگ شخصیت

 

 

 

 

 

مجتبیٰ حسین صدیقی

مجاہد آزادی گرامی مرتبت جناب مولانا مجتبٰی حسین صاحب رحمت اللہ علیہ ( عرف ننہیں میاں ) کی پیدائش بتاریخ 24 جنوری 1901 کو تحصیل فتح پور بارہ بنکی میں ہوئی اور 6 جنوری 2003 کو اپنے آبائی مکان محلہ قانون گویان میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہو کر مالک حقیقی سے جاملے۔ آپ کا نسبی سلسلہ امیر المومنین سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر منتہٰی ہوتا ہے۔ والد ماجد محمد حسین صاحب کا وطن قصبہ بجنور ضلع لکھنؤ کا تھا مگر وہ بغرض وکالت تحصیل فتح پور منتقل ہو گئے تھے۔ یہیں آپ کی شادی قصبہ بانسا کے معروف زمین دار گھرانے میں ہوئی جس کا سلسلہ سلف صالحین سے ہوتا ہوا عہد اکبری کے بڑے ولی کامل سلسلے قادریہ کے بزرگ سید شاہ عبد الرزاق صاحب بانسوی قدس اللہ سرہ ( 1636 – 1724 صدی عیسوی ) سے ملتا ہے۔ یہاں اجمالاً آپ کے خلیفہ ملا نظام الدین محمد فرنگی محلی ( 1677- 1748 صدی عیسوی ) ابن ملا قطب الدین شہید صحالوی، کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ملا نظام الدین کا قائم کردہ تعلیمی نظام ہندوستاں اور بیرون ممالک اسلامیہ کے مدارس میں رائج رہا ہے اور آج بھی پڑھایا جاتا ہے۔ یہ تعلیمی نصاب “درس نظامی” کے نام سے مشہور ہے۔

محمد حسین صاحب کے چار اولادیں تھیں سب سے بڑی صاحبزادی فاطمہ زہرا، چار صاحبزادے مصطفیٰ حسین، مجتبٰی حسین، مرتضٰی حسین اور محمد محسن تھے۔ مجتبٰی حسین صاحب کی شادی 1926 میں اسی سر زمین مسولی کے معزز گھرانے کے زمین دار عبد العزیز قدوائی صاحب کی صاحزادی سے ہوئی۔ عبد العزیز صاحب بھی تحریک آزادی کے مجاہدوں میں سے تھے۔ آپ کی دو اولادیں ہیں بڑے صاحبزادے ہیں حسن مجتبٰی صدیقی صاحب جو محلہ قانون گویان کی اپنی آبائی جگہ پر سکونت پذیر ہیں اور صاحبزادی محترمہ فرحت فاطمہ صاحبہ ہیں جو علی گڑھ میں رہتی ہیں۔ اللہ دونوں کا سایہ صحت و تندرستی کے ساتھ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔

مجتبٰی حسین صاحب کی بنیادی تعلیم بارہ بنکی میں ہوئی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے لکھنؤ یونیورسٹی جو اس وقت کیننگ کالج کے نام سے جانی جاتی تھی چھوٹے بھائی مرتضٰی حسین صاحب اور آپ دونوں کا داخلہ وہیں انٹرمیڈیٹ میں ہو گیا۔ کانگریس کے nationalist movement اور Gandhian idiology سے متاثر، ان دونوں بھائیوں نے تعلیم نامکمل چھوڑ دی۔ چھوٹے بھائی لکھنؤ میں چل رہے کانگریس کے جلسے میں پہنچ کر چوہدری خلیق الزماں صاحب سے ملے اور اُنہیں اپنے کالج چھوڑنے کی خبر سے مطلع کیا، مرتضٰی حسین صاحب اس وقت اتنے چھوٹے تھے کہ خلیق الزماں صاحب نے اُنہیں میز پر کھڑا کرکے عوام سے مخاطب ہو کر اس چھوٹے سے لڑکے کے جذبہ کو سلام کیا۔

بارہ بنکی میں دونوں بھائی سر گرم عمل ہو گئے اور جگہ جگہ جلسے کرنے لگے۔ آپ کے بڑے بھائی جناب مصطفیٰ حسین صاحب جو پہلے ہی انگریزی سامراج سے نفرت کرتے تھے اپنے بھائیوں کے ساتھ ہو گئے۔ ضلع کلیکٹر نے والد کو جو سرکاری ملازمت میں تھے بلوا بھیجا اور صاحبزادوں کی کرتوت سے آگاہ کیا اور کہا کہ اگر یہ لوگ بعض رہیں تو نائب تحصیلدار کے عہدوں پر تقرر ہو سکتا ہے۔ مگر دونوں بھائیوں نے offer قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ باشندگان بارہ بنکی کے جوش اور ولولہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انگلینڈ کا اخبار “لندن ٹائمز” لکھتا ہے؛ “ہندوستان کے صوبہ اودھ میں ایک ضلع بارہ بنکی ہے وہاں عملی طور پر انگریزی حکومت کا خاتمہ ہوچکا ہے اور ضلع کلیکٹر کو شب لکھنؤ میں گزارنی پڑتی ہے۔”

مجتبٰی حسین بقلم خود تحریر فرماتے ہیں؛
“نومبر 1921 میں Prince of Wales دہلی آئے ہوئے تھے لہٰذا وہاں بڑا جشن تھا۔ گاندھی جی نے boycott کا اعلان کیا، ہم تینوں بھائی اور کامیشور ناتھ، شیو منگل، ماسٹر الا الدیں فرزند محمد علی کے ساتھ گورنمنٹ اسکول گئے۔ مرتضٰی حسین نے اسکول کے گیٹ پر پرجوش تقریر میں ہڑتال کی اپیل کی اور لڑکوں نے فوراً عمل كر دیا۔ وہیں سے جلوس کی شکل میں شھر کی طرف آئے۔ دوسرے دن پولس انسپکٹر نواب علی کی کوٹھی آئے اور ہم لوگوں کو بلوا بھیجا۔ وہاں فیض آباد کی پولیس آئی ہوئی تھی۔ ہم تینوں بھائیوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ مقدمہ ہوا ڈیڑھ سال کی سزا سنائی گئی۔ والد صاحب نے سرکاری وکالت سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ اطلاع کسی طرح نہرو جی تک پہنچ گئی اُنھوں نے سوراج فنڈ سے پچاس روپے ماہوار کے حساب سے منی آرڈر بھجوایا جو والد صاحب نے گھر میں مالی تنگی ہونے باوجود شکریے کے ساتھ واپس کر دیا”۔ ایک مہینہ بارہ بنکی جیل کے بعد بیڑیاں پہنا کر رائے بریلی جیل منتقل کیا گیا”۔

رائے بریلی سے ان حضرات کو لکھنؤ جیل منتقل کیا گیا۔ فروری 1922 کو لکھنؤ جیل میں موتی لعل نہرو، پنڈت جواہر لعل نہرو اور رفیع احمد قدوائی اور کانگریس کے چوٹی کے بہت سے لیڈران گرفتار ہوکر لکھنؤجیل اگئے۔ تقریباً سات ماہ کی سزا کاٹنے کے بعد رہائی ہوئی۔ 1947-48 میں رائے بریلی اور فیض آباد میں آپ بحیثیت انفارمیشن افسر بھی تعینات رہے۔

تحریک آزادی کے اہم مجاہد اور ہندوستان کے پہلے پدم بھوشن شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی رحمت اللہ علیہ سے آپ مرید بھی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت صدیقِ اکبر کی رقیق القلبی، اکابرین بزرگوں کا اثر اور پیر و مرشد شیخ الاسلام کی نظر کرم جو مجتبٰی حسین صاحب کی وضع قطع، تقویٰ و پرہیز گاری میں ان سبھی صفات کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

نجم الدین احمد فاروقی

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

13 − two =

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Scroll To Top
error

Enjoy our portal? Please spread the word :)