جنریشن زیڈ: ایک نئی فکری اور سماجی حقیقت

Date:

ذکی نور عظیم ندوی – لکھنؤ

نیپال میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں میں “جنریشن زیڈ” کا نام سننے کے بعد اس کے سلسلہ میں مختلف ذرائع سے حاصل معلومات کو اس پس منظر میں قارئین کی نظر کر رہا ہوں کہ شاید ان میں سے بھی بیشتر کو اس کی تلاش و جستجو ہو۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا کی تاریخ ہمیشہ نسلوں کے بدلنے اور نئی نسلوں کے ابھرنے کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ ہر نسل اپنے ساتھ کچھ ایسے تجربات، مشاہدات اور چیلنجز لے کر آتی ہے جو اسے اپنی پچھلی نسلوں سے ممتاز بناتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سماجیات اور آبادیاتی علوم میں مختلف نسلوں کے تعین پر کافی توجہ دی جاتی ہے۔ اگر ہم بیسویں اور اکیسویں صدی کے تناظر میں بات کریں تو ہزار سالہ نسل، جسے جنریشن وائے یا ملینیئلز کہا جاتا ہے، کے بعد جنریشن زیڈ کا دور شروع ہوا۔ اس نسل کی پیدائش عمومی طور پر 1997 سے لے کر 2012 یا بعض محققین کے مطابق 2015 تک کے برسوں میں ہوئی۔

اس کے بعد جو نسل دنیا میں آئی اسے جنریشن الفا کہا جاتا ہے۔ مگر آج کا موضوع وہ نسل ہے جسے جنریشن زیڈ کے نام سے جانا جاتا ہے، اور جو اپنی کئی خصوصیات کی بنا پر انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی “ڈیجیٹل جنریشن” کے طور پر سامنے آئی ہے جس نے بچپن سے ہی انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ پایا۔

 "جنریشن زیڈ" کا نام سننے

جنریشن زیڈ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے اپنی آنکھیں ایک ایسی دنیا میں کھولیں جہاں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اسمارٹ فون اور ہائی اسپیڈ ڈیجیٹل سہولیات پہلے ہی موجود تھیں۔ اس سے پہلے کی نسلوں نے کمپیوٹر یا انٹرنیٹ کو رفتہ رفتہ اپنایا، لیکن زیڈ کے بچے جب شعور کی دنیا میں داخل ہوئے تو انہیں لیپ ٹاپ، آئی فون اور ڈیجیٹل گیجٹس پہلے ہی دستیاب تھے۔

یہ وہ نسل ہے جس نے 3 جی اور 4 جی کے بعد 5 جی اسپیڈ انٹرنیٹ کو بھی اپنے جوانی کے دنوں میں پایا۔ یہی نہیں بلکہ آن لائن گیمنگ، ای کامرس، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ورچوئل کمیونیکیشن کو انہوں نے اپنی روزمرہ زندگی کا ایسا لازمی حصہ بنایا کہ ان کے بغیر زندگی کا تصور مشکل محسوس ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب نیپال جیسے ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی گئی تو نوجوان نسل، خصوصاً زیڈ کے نمائندے، سخت برہم ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے ان پلیٹ فارمز کی اہمیت محض تفریح یا وقتی سہولت تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کی سماجی، فکری اور معاشی سرگرمیوں کے بنیادی اوزار ہیں۔

یہ نسل اپنی پچھلی نسلوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیک سیوی کہلائی ہے۔ ٹیک سیوی سے مراد یہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو نہ صرف تیزی سے اپناتے ہیں بلکہ اسے اپنی ضرورت اور ترجیح کے مطابق ڈھالتے بھی ہیں۔

آن لائن گیمنگ ان کی روزمرہ کا حصہ ہے، یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر وہ نہ صرف وقت گزارتے ہیں بلکہ اپنی شناخت، اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور اپنے نظریات کو بھی پیش کرتے ہیں۔ یہی پلیٹ فارمز ان کے لیے سماجی تعلقات کا ذریعہ بھی ہیں اور سیاسی و سماجی شعور کو اجاگر کرنے کا وسیلہ بھی۔

 "جنریشن زیڈ" کا نام سننے

جنریشن زیڈ کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے طبقاتی امتیاز اور پرانے دور کے سماجی تعصبات کو قریب سے نہیں دیکھا۔ وہ ایک ایسی دنیا میں بڑے ہوئے ہیں جہاں کم از کم شعوری سطح پر برابری، شمولیت اور تنوع کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ نسل کسی بھی طرح کی امتیازی سلوک یا نسلی، مذہبی اور طبقاتی تعصب کے خلاف آواز بلند کرنے سے ہچکچاتی نہیں۔ وہ تنوع کو قبول کرتے ہیں، مختلف معاشرتی شناختوں اور ثقافتی رنگوں کو اپنی زندگی کا حصہ مانتے ہیں اور سماجی انصاف کو ایک لازمی قدر کے طور پر اپناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صنفی مساوات، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی حقوق جیسے عالمی مسائل میں یہ نسل سب سے زیادہ فعال اور بیدار نظر آتی ہے۔

اگر ہم ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ رجحانات پر نظر ڈالیں تو ایک بڑی تبدیلی یہ بھی دکھائی دیتی ہے کہ یہ نسل روایتی ملازمتوں کی طرف کم مائل ہے۔ پچھلی نسلیں ملازمت میں سیکیورٹی، مستقل آمدنی اور ایک طے شدہ ڈھانچے کو ترجیح دیتی تھیں، لیکن زیڈ کے نوجوان اس کے برعکس اپنی آزادی اور تخلیقی امکانات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

وہ فری لانسنگ، اسٹارٹ اپس اور تخلیقی کیرئیرز کی طرف زیادہ راغب ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے لیے مواقع خود پیدا کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور رسک لینے سے گھبراتے نہیں۔ اس رجحان نے دنیا کی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں، کیونکہ آج فری لانسنگ اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے لاکھوں نوجوان اپنی خدمات عالمی مارکیٹ میں پیش کر رہے ہیں۔

یہ نسل اپنی معاشی سوچ کے اعتبار سے بھی کچھ مختلف ہے۔ اگرچہ وہ آزادی پسند ہیں اور نئی راہوں پر چلنے کے خواہاں ہیں، لیکن ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ملینیئلز کے مقابلے میں زیادہ عملی اور بچت پسند ہیں۔ وہ اپنے وسائل کے بارے میں زیادہ محتاط ہیں، غیر ضروری اخراجات سے پرہیز کرتے ہیں اور مالیاتی منصوبہ بندی پر توجہ دیتے ہیں۔ اس رجحان نے انہیں ایک طرف ذمہ دار بنایا ہے تو دوسری طرف انہیں سرمایہ کاری اور مالیاتی آزادی کے خوابوں سے بھی قریب کر دیا ہے۔

جنریشن زیڈ کی دنیا صرف ٹیکنالوجی یا معیشت تک محدود نہیں۔ یہ نسل اپنی سماجی و ثقافتی ترجیحات میں بھی انقلابی تبدیلیاں لے کر آئی ہے۔ مثال کے طور پر ان کے لیے دوستیاں اور تعلقات صرف محلے یا خاندان کی سطح پر محدود نہیں رہتے بلکہ یہ دنیا کے کسی بھی کونے میں قائم ہو سکتے ہیں۔

ایک نیپالی نوجوان کا ایک افریقی یا یورپی ہم عمر سے گہرا تعلق ہونا آج معمول کی بات ہے، اور اس کی بنیاد صرف سوشل میڈیا ہے۔ اس طرح عالمی سطح پر ایک ایسا “ورچوئل کلچر” پروان چڑھ رہا ہے جس میں جغرافیائی سرحدوں کی اہمیت کم اور مشترکہ دلچسپیوں اور اقدار کی اہمیت زیادہ ہے۔

لیکن ہر نئی نسل کی طرح زیڈ کے سامنے بھی کئی چیلنجز موجود ہیں۔ ٹیکنالوجی سے بے پناہ لگاؤ نے انہیں جہاں مواقع دیے ہیں، وہیں کچھ مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نسل حقیقی دنیا کے تعلقات کے مقابلے میں ورچوئل دنیا پر زیادہ انحصار کرنے لگی ہے۔

اس کا اثر ان کی ذہنی صحت پر بھی پڑ رہا ہے۔ اضطراب، ڈیپریشن اور “فیئر آف مسنگ آؤٹ” جیسی نفسیاتی کیفیات اس نسل میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح پرائیویسی کے مسائل، ڈیجیٹل لت اور آن لائن بدتمیزی بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔

مگر اس کے باوجود، جنریشن زیڈ کو انسانی تاریخ کی پہلی ایسی نسل کہا جا سکتا ہے جس نے ایک ہی وقت میں دنیا کو “مقامی” بھی رکھا اور “عالمی” بھی بنایا۔ وہ اپنی شناخت پر فخر کرتے ہیں لیکن دوسروں کی شناخت کو قبول کرنے کا بھی حوصلہ رکھتے ہیں۔

وہ اپنی زبان، ثقافت اور اقدار کے امین ہیں مگر ساتھ ہی دوسری زبانوں اور ثقافتوں سے بھی سبق لیتے ہیں۔ وہ تنقید کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنی آواز بلند کرنے کے لیے کسی روایتی پلیٹ فارم کے محتاج نہیں۔ ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ ان کے لیے احتجاج کا ذریعہ بھی ہے اور عالمی توجہ حاصل کرنے کا ہتھیار بھی۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ جنریشن زیڈ ایک ایسی نسل ہے جو اپنے اندر امکانات اور خطرات دونوں سمیٹے ہوئے ہے۔ اگر یہ نسل اپنی ٹیکنالوجی پر گرفت کو مثبت سمت میں استعمال کرے، اپنے تخلیقی رجحانات کو تعمیری مقاصد میں ڈھالے اور اپنے سماجی شعور کو عملی اقدام میں تبدیل کرے تو یہ انسانی تاریخ میں ایک غیر معمولی کردار ادا کر سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ نسل صرف فوری لذت، سطحی تعلقات اور مجازی دنیا میں الجھ کر رہ گئی تو شاید یہ اپنی اصل صلاحیتوں سے محروم رہ جائے۔

آج کی دنیا میں جب ٹیکنالوجی ہر شعبے میں داخل ہو چکی ہے، سیاست سے لے کر معیشت تک اور تعلیم سے لے کر سماجی تعلقات تک، جنریشن زیڈ کا کردار فیصلہ کن ہے۔ یہ نسل نہ صرف موجودہ دنیا کی حقیقت ہے بلکہ مستقبل کا تعین بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔

ان کی سوچ، ان کے اقدار اور ان کی ترجیحات دنیا کو کس سمت میں لے جائیں گی، یہ سوال آنے والے برسوں میں مزید واضح ہو گا۔ لیکن ایک بات طے ہے: یہ نسل ماضی کی روایات کو اندھی تقلید کے طور پر قبول کرنے کے بجائے اپنی دنیا خود بنانا چاہتی ہے۔ اور اسی کو اپنا کمال سمجھتی ہے جس میں دراصل ان کا امتحان بھی ہے۔
zakinoorazeem@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

one × three =

Share post:

Subscribe

Popular

More like this
Related

आंगनबाड़ी से 10 हजार रुपये मांगने का आरोप, सीडीओ पर कार्रवाई

edited: Mukesh Yadav उत्तर प्रदेश के Etah से जुड़ा एक...

Trump says war Will End Soon

Edited by: Maroof Raza Iran War Updates: Trump Predicts Conflict...

विकास परियोजनाओं का लोकार्पण करेंगे प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी

प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी ने आज नई दिल्ली में लगभग...

बेटियों की सुरक्षा सुनिश्चित करें योगी आदित्यनाथ: नीलम यादव

प्रेस विज्ञप्ति अंतरराष्ट्रीय महिला दिवस पर महिला सुरक्षा को लेकर...