
ڈاکٹرعلیم خان فلکی
اسلامک کلچرکی عزت و ناموس پرآنچ تو نہ آئےگی……….
کچھ سال پہلے تک جامع مسجد کے باہر ایک پوری سڑک کتابوں کی دکانوں سے بھری ہوتی تھی۔ دکاندار کتابیں بچھا کر آدھی سڑک پر قبضہ کرلیتے تھے۔ بڑے بڑے پبلشر ہوا کرتے تھے جنہوں نے اردو سے کماکر بڑی بڑی عمارتیں بھی بنوالیں، لیکن انہیں ادیبوں اور شاعروں کی بددعائیں ایسی لگیں کہ آج انہی پبلشرز کی اولادیں انہی دوکانوں پر انڈے ، مچھلیاں یا پھر چِکن تکّہ بیچنے پر مجبور ہیں، کیونکہ انہوں نے ادیبوں کا حق اداکئےبغیر بےشمار کتابیں شائع کرکے بیچ ڈالیں .
کبھی غریب ادیبوں یا شاعروں کا حصہ ادا نہیں کیا۔ البتہ دوچار دکانوں پر آج بھی قرآن، بہشتی زیور، کامیاب دلہا اور کامیاب دلہن بِکتے ہیں کیونکہ شادیوں میں جہیز کے ساتھ یہ بھی تحفے میں دینے کا رواج ہے۔
البتہ اخبارات وسیاسی ہفتہ وار رسائل خوب بِکتے دیکھا کیونکہ ان کی سرخیوں میں ایک بیوا کی فریاد کی طرح مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و تشدّد کی خبریں بھری ہوتی ہیں، اور قوم جب تک ان پر پڑنےوالے جوتوں کا ہر روزکوئی تازہ تذکرہ نہیں پڑھ لیتی اسے احساس نہیں ہوتا کہ وہ زندہ ہے ابھی۔
تقریباً پندرہ بیس سال پہلے ہمارا سعودی ایمبیسی جانے کا اتفاق ہوا تھا، قریب میں ایک مسلمان نام کا ریسٹورنٹ تھا، ہم داخل ہوئے تھے اور ویٹر سے پوچھا تھا کہ کیا یہاں حلال ملتا ہے؟ اس نے فخرسے کہا تھا ’’یہ علی بھائی کا ہوٹل ہے صاحب، پورے علاقےمیں واحد میاں بھائی کا ہوٹل ہے جہاں حلال ملتاہے‘‘۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی تھی۔
اتفاق سے اسی جگہ پھر جانے کا اتفاق ہوا۔ ریسٹورنٹ تو اب بھی تھی لیکن سکڑکرایک ملگی میں آگئی تھی، باقی جگہ پر کیسینو آچکا تھا۔ جس میں ایک ویٹرسےپتہ چلا کہ بار، کیبرے اور عیاشی کا ہرسامان موجود ہے۔ ہم نے ایک ویٹر سے پوچھا کہ بھائی یہ پب کس کا ہے؟ اس نے اسی فخر سے جواب دیا ’’یہ علی بھائی کے بیٹے کا ہے صاحب، پورے علاقےمیں واحد میاں بھائی کا پب ہے ‘‘۔
انڈین اسلامک کلچرسنٹرلودھی روڈ بھی جانے کا اتفاق ہوا بلکہ وہاں پانچ دن رہنے کا بھی اتفاق ہوا۔ اس کے اغراض و مقاصد جاننےکابھی اتفاق ہوا اور طبیعت خوش ہوئی کہ یہ سنٹرصحیح اسلامی کلچرکو پیش کرنے کی کوشش کرےگا۔ لیکن بہت افسوس ہوا جب ہم نے اندر اسلامی کلچرکا ستیاناس دیکھا۔
داخل ہوئے تو ہرطرف اسی بھگوا ہِٹلرکی تصویریں آویزاں تھیں جن سے ہر تعلیم یافتہ سمجھدار انڈین نفرت کرتا ہے۔ سنٹرمیں تین چاربڑے ہال ہیں جنہیں شادیوں کےلئےکرائےپردیاجاتاہے۔ جتنی شادیاں اور پارٹیاں ہم نے دیکھیں، ان میں ایک بھی ایسی نہیں تھی جس کو اسلامک کلچر کہا جاسکے۔
پوری مارواڑی اور راجپوت کلچرکی مسلمان پارٹیاں تھیں۔ ہمیں غصہ اس بات پر بھی آیا کہ ہم کسی بھی خوبصورت عورت پر نظر پڑنے پر فوری استغفار پڑھ کر نظرجھکالینے والے شریف انسان ہیں لیکن وہاں دعوت میں آنےوالی غضب کی خوبصورت عورتیں ہرطرف نظرآئیں جو بیوٹی پارلر سے سیدھے ہال پہنچ رہی تھیں، کئی تو میک اپ کے بعد کنواریاں لگ رہی تھیں۔
ہماری کم بخت نگاہیں ان کے چہروں سے ہٹنےکا نام ہی نہ لیتیں۔ شائد اس لئے کہ اگرصرف چہرہ کھلا نظرآتا تو نظریں ہٹ بھی جاتیں، وہاں تو چہرے کے علاوہ اور بہت کچھ کھلا نظرآرہا تھا، جس کی خوبصورتی، زاویئے اور دلربانہ انداز دیکھنے وقت تو لگتا ہے، اس سے پہلے کہ ہمیں یہ احساس ہوتا کہ یہ تاڑنا غلط بات ہے، اور ہم اپنی نظروں کو ڈانٹتے، اتنی دیر میں تو نظریں اپنی حسرتیں پوری کرچکی ہوتیں۔
ہم شرمندگی سے اِدھر اُدھر دیکھتے کہ کوئی ہمیں دیکھ تو نہیں رہا ہے، پتہ چلتاکہ ہر نظر اسی کام میں مصروف ہے جس کام میں ہماری نظریں مصروف تھیں۔ ایک پارٹی دیکھی جو منڈا کے نام سے تھی۔ ہمارے لئے یہ نئی چیز تھی۔ پتہ چلا کہ حیدرآبادی جس کو منجہ سانچق اور بنگلور والے جسے مبارکہ یا شکرانہ کہتےہیں، یہ بھی انہی خرافات میں سے ایک ہے۔
اس میں کھانے کے علاوہ مردحضرات بچّوں کوگودمیں لئےباہردوسرے بچے سنبھالنےوالےمردوں کےساتھ ٹائم پاس کرتےہیں، اورعورتیں اندر ایک دوسرےکےڈریس، میک اپ اور زیورکا سروے کرتی ہیں۔ کبھی کبھارکوئی برقعےبھی نظرآئے۔ کسی سےپوچھنےپرپتہ چلاکہ دہلی سے باہرکےلوگ جیسے میرٹھ، بلندشہر، علیگڑھ وغیرہ جہاں ایجوکیشن زیادہ نہیں ہے، وہاں سے آکرایسی دعوتوں میں شریک ہوتےہیں۔
سوال یہ ہےکہ اگرایسی شادیوں کے کرائےسےبھلےقوم کی فلاح کےلئےہی کام کئےجاتےہوں، لیکن اس کےلئےدوسرے شادی خانوں کی طرح راست شادی خانے کیوں نہیں کھول لئےجاتے، انہیں اسلامک کلچرکےنام سے کھول کرغیراسلامی کلچرکوفروغ دے کرپیسہ کمانا اور قوم پرخرچ کرنےسےفائدہ کس کوہوگا اورنقصان کیا ہوگا، یہ کوئی سوچنے والا کیوں نہیں ہے؟
اگراسلامک کلچرکوقائم کرنےکاواقعی عزمِ صادق ہےتواعلان کیجئےکہ جوشادی مکمل اسلامک کلچرپرہوگی صرف اسی کو ہال دیا جائیگا۔ دھوم مچ جائیگی اورصرف مسلمان ہی نہیں سارےلوگ ٹوٹ پڑیں گے اورمہینےکے تیس دن پورے ہالس بُک ہوجائیں گے۔ اوراگرفرض کرلیں کہ کوئی بھی اسلامی کلچرپرشادی کرنا نہیں چاہتا توہال بندکردیں تب بھی فائدہ ہے۔ کم سےکم اسلامک کلچرکی عزت و ناموس پرآنچ تو نہ آئےگی۔
حیدرآباد
Please follow and like us: