پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ اجلاس خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ماہرین نے اس اجلاس کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان کی جانب سے علاقائی امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں ایک ’اہم پیش رفت‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
اتوار کو سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اسلام آباد پہنچے تو ایئرپورٹ پر سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور ایڈیشنل فارن سیکرٹری مشرقِ وسطیٰ سید احمد معروف نے ان کا استقبال کیا، اس کے بعد سعودی وزیر خارجہ دفتر خارجہ پہنچے جہاں وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ ایک دو روزہ چار فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں۔
پاکستان ایران جنگ پر سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کرے گا
ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سنیچر کی رات اسلام آباد پہنچے جہاں وزارتِ خارجہ کے حکام نے ان کا استقبال کی تھا۔
پاکستان، ایران کی جنگ کے تناظر اور خطے میں کشیدگی کم کرانے کی کوششوں کے سلسلے میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔
29 اور 30 مارچ کو ہونے والے اس اہم اجلاس کا مقصد خطے میں جاری دشمنی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنا ہے۔
اس سفارتی سرگرمی کے آغاز سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں انہوں نے علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے مکمل تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’موجودہ بحران کا واحد حل صرف اور صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر حملوں اور دشمنی کے فوری خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔‘
اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے ہاکان فیدان اور مصر کے ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ مل کر تناؤ کم کرنے کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
سنیچر کو دفتر خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی متوقع ہے۔‘
پاکستان نے حالیہ عرصے کے دوران خود کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک سفارتی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، کیونکہ پاکستان کے ایران کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی قریبی روابط ہیں، اسی لیے پاکستان اس تنازعے میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس دورے کے پہلے مرحلے میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصری اور ترک ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں جن میں جہاں دوطرفہ تجارت اور دفاعی تعاون پر بات ہوئی، وہیں غزہ میں جاری انسانی بحران اور ایران اسرائیل تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔